بیجنگ،27؍جون(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)چین نے سکم کے علاقے میں ہندوستانی جوانوں پر سرحد پار کرنے کا الزام عائد کیا اور ان سے فوری طور پر واپس لوٹنے کی مانگ کی۔ساتھ ہی چین نے کہا کہ سرحد پر تنازعہ کی وجہ اس نے کیلاش مان سروور جانے والے ہندوستانی زائرین کے لئے ناتھو لا درہ بند کر دیا ہے۔چین نے ہندوستانی جوانوں کے سکم کے علاقے میں چینی علاقے میں گھسنے کا الزام لگاتے ہوئے نئی دہلی اور بیجنگ دونوں جگہ ہندوستان کے سامنے سفارتی مخالفت بھی درج کرائی ہے۔چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان ل کانگ نے یہاں ایک میڈیا بریفنگ میں کہا کہ ہم نے اپنے اہم رخ کے بارے میں بتانے کے لئے بیجنگ اور نئی دہلی میں شدید احتجاج درج کرایا ہے۔انہوں نے کہا کہ اپنی علاقائی خودمختاری کو قائم رکھنا ہمارا یقین ہے،ہم امید کرتے ہیں کہ ہندوستان اسی سمت میں چین کے ساتھ کام کر سکتا ہے اور اپنے فوجیوں کو فوری طور پر واپس بلائے جو آگے چلے گئے ہیں اور چینی سرحد میں گھس گئے ہیں۔چین نے گزشتہ رات کہا تھا کہ اس نے سرحدی تنازعے کے پیش نظر ناتھو لا درہ کے ذریعے تبت میں داخل ہونے والے ہندوستانی زائرین کے دورے پرسیکورٹی وجوہات سے روک لگا دی ہے۔
چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان گیگ شاگ نے کہا کہ چین، ہندوستان سے درخواست کرتا ہے کہ وہ سرحد پار کرنے والے جوانوں کو فوری طور پر واپس بلائے اور اس معاملے کی تفصیلی تحقیقات کرائے۔انہوں نے پیر کی رات جاری ایک بیان میں کہا کہ ہندوستانی سرحد محافظ فورسز نے چین-ہند سرحد کے سکم کے علاقے میں سرحد پار کی اور چین کے علاقے میں گھس گئے اور انہوں نے حال ہی میں سکم میں دوگلاگ علاقے میں چینی سر حد ی دستوں کی معمول کی سرگرمیوں کو روکا۔سڑک کی تعمیر کو لے کر تنازعہ ہی وہ وجہ دکھائی دے رہی ہے جس کی وجہ سے چین نے سکم میں ناتھو لا درہ کے ذریعے تبت میں کیلاش اور مان سروور کی یاتر کے لئے روانہ ہوئے 47ہندوستانی زائرین کے جتھے کو روک دیا ہے۔